17 جولائی 2010 - 19:30

ایک روایت کے مطابق حضرت سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسم مبارك : حضرت فاطمہ زھرا (ص)كنيت : ام الحسن ، ام الحسين ، ام المحسن ، ام الائمہ و ام ابيھاالقاب : زھرا ، بتول ، صديقہ ، كبري ، مباركہ ، عذرہ ، طاھرہ ، و سيد النساءوالد : حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلموالدہ : ام المومنين حضرت خديجہ الكبريولادت : 20 جمادي الاخر ، بعثت كے پانچويں سال بروز جمعہمقام ولادت : شہر مكہ معظمہوفات :3 جمادي الثاني 11 ھجري بروز پيرمقام شہادت : شہر مدينہ منورہ محمد و آل محمد کے گھرانے کے تمام معصومین ایک الھی تسبیح کے عبودیت سے معمور دانے یا ایک ہی مقدس آفتاب کی نورانی کرنیں یا ایک قدسی گلستان کے پاکیزہ پھول ہیں۔افسوس ہے کہ اسی گلستان کا ایک پھول وہ فاطمہ(س) جن کی تعظیم کو رسول کھڑے ہوجاتے تھے رسول کے جانے کے بعد اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف سے پھر گیا۔پيامبر اسلام (ص) كے فراق ميں حضرت زہرا (ص) كا رنج و غم اتنا زيادہ تھا كہ جب بھي پيغمبر اسلام (ص) كي كوئي نشاني ديكھتي گريہ كرنے لگتي تھيں اور بے حال ہوجاتي تھيں۔ایک روایت کے مطابق حضرت سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اورچند مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔

السلام عليك يا مولاتي يا زهراءلعن الله قاتلی یا فاطمة الزهراء

-------------اقبال فرماتے ہیں:

مریم از یک نسبت عیسی عزیزاز سه نسبت حضرت زهرا عزیزنور چشم «رحمة للعالمین»آن امام اولین و آخرینآن که جان در پیکر گیتی رسیدروزگار تازه آیین آفریدبانوی آن تاجدار «هل اتی»مرتضی مشکل گشا شیر خدامادر آن مرکز پرگار عشقمادر آن کاروان سالار عشقآن یکی شمع شبستان حرمحافظ جمعیت خیر الأُمَمتا نشینند آتش پیکار و کینپشت پا زد بر سر تاج و نگینو آن دگر مولای ابرار جهانقوّت بازوی احرار جهاندر نوای زندگی سوز از حسیناهل حق حریت آموز از حسینسیرت فرزندها از اُمّهاتجوهر صدق و صفا از اُمّهاتبهر محتاجی دلش آن گونه سوختبا یهودی چادر خود را فروختمزرع تسلیم را حاصل بتولمادران را اسوه کامل بتول

/110

متعلقہ لنکس:

- کیا مدینہ کے گھروں کے دروازے تھے؟

- حضرت فاطمہ کی شہادت افسانہ نہیں ہے